Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
چھوٹی ہوئی قربانی کا فدیہ کیسے ادا کریں؟
- Issued
- ماہنامہ فیضان مدینہ ستمبر 2017
Question
دَارُ الإِفْتَاء أَبْلَسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ (1) اگر کسی شخص نے گزشتہ پانچ سال کی قربانیاں نہ کی ہوں جبکہ وہ اس پر واجب تھیں تو اب ہر قربانی کے بدلہ ایک بکرے کی ہی قیمت صدقہ کرے یا گائے کے حصوں کے حساب سے 5 حصوں کی رقم صدقہ کرنا بھی جائز ہے؟ قربانی واجب تھی لیکن جانور یا حصہ وغیرہ نہیں خریدا تھا۔ (2) جس طرح زکوۃ کی رقم شرعی حیلہ کرنے سے مدرسہ کی تعمیر (Construction) میں لگائی جاسکتی ہے کیا اسی طرح پچھلی قربانیوں کی جو رقم ادا کرنالازم ہے وہ حیلہ کے ذریعہ مدرسہ کی تعمیر میں لگا سکتے ہیں ؟
Answer (beginning)
(1) اگر کسی نے بلائنڈر پانچ سال تک قربانی نہیں کی تو وہ اس واجب کو چھوڑنے کی وجہ سے گنہ گار ہوا، اب اس سے تو بہ بھی کرے اور اس پر ہر سال کی قربانی کے بدلہ ایک بکری کی ہی قیمت صدقہ کرنا واجب ہے ، گائے کے حصوں کی قیمت صدقہ نہیں کر سکتے کہ کتب فقہ میں اس صورت کا یہی محکم بیان کیا گیا ہے۔ (2) جی ہاں ! گذشتہ سالوں کی قربانی کی رقم جیلہ شرعیہ کے ذریعہ مدرسہ کی تعمیر وغیرہ پر لگا سکتے ہیں کیونکہ یہ صدقہ واجبہ ہے اور صدقات واجبہ مثلا ز کوۃ اور صدقہ فطر وغیرہ کا یہی حکم ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.