Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

حاملہ کی عدت کب تک ہوگی ؟

Fatwa no.
11964:kan

Question

دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص کا نکاح دسمبر 2015 میں ہوا، 7 اکتوبر 2016 کو کچھ وجوہات کی بناء پر اس نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ لڑکی حاملہ ہے۔ اس کی عدت کتنی ہو گی ؟ اور اس لڑکی کا دوسری جگہ نکاح کب تک کر سکتے ہیں ؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں لڑکی کی عدت بچہ پیدا ہونے تک ہو گی کیونکہ حاملہ کی عدت وضع حمل تک ہوتی ہے اور عدت گزرنے یعنی بچہ پیدا ہونے کے بعد ہی اس کا دوسری جگہ نکاح ہو سکتا ہے ، عدت کے دوران نکاح حرام ہے۔ وَاللهُ أَعْلَمُ عَزوَجَل وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِيهِ وَسَلَّم Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaohlesunnat.net Dar-ul-ifta AhleSunnat f daruliftoahlesunnat DaruliftAhlesunnat feedback@daruliftoahlesunnat.net

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.