Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا سعی یا طواف کے دوران آرام کرنا جائز ہے؟

Answered by
مفتی قاسم صاحب مدظله العالی

Question

دَارُ الإِفْتَاء أَبْلَسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ طواف یا سعی کے دوران تھکن کی وجہ سے کچھ دیر آرام کر سکتے ہیں؟ سائلہ : امم ہلال رضا (لا ئنز ایریا، کراچی)

Answer (beginning)

طواف اور سعی کے پھیرے لگانے میں ان کا پے درپے ہو نا سنت ہے اور بلا عذر ان میں فاصلہ کرنا مکروہ ہے۔ عذر سے مراد وضو کرنا یا جماعت قائم ہونا یا جنازہ آجانا یا پیشاب پاخانہ کی حاجت ہونا یا تھک جاتا ہے۔ لہذا اگر طواف یا سعی کے چند چکر لگانے کے بعد تھکاوٹ محسوس ہوئی اور کچھ دیر آرام کر لیا پھر جہاں سے سعی یا طواف چھوڑا تھا وہاں سے دوبارہ شروع کر دیا تو جائز ہے البتہ اگر بہت زیادہ فاصلہ کر دیا ہو تو شروع سے کرنا مستحب ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.