Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

اِضطبِاع کی حالت میں نماز پڑھنا کیسا؟

Answered by
مفتی قاسم صاحب مدظله العالی تاریخ اجراء: ماہنامہ فیضان مدینہ اگست 2017
Issued
ماہنامہ فیضان مدینہ اگست 2017

Question

دَارُ الإِفْتَاء أَبْلَسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ طواف میں اضطباع کیا پھر طواف کے بعد اسی حالت میں نماز پڑھ لی تو کیا نماز ہو گئی ؟

Answer (beginning)

طواف پورا ہونے کے بعد طواف کرنے والے کے لئے حکم یہ ہے کہ وہ اپنا کندھا جو کہ طواف کرتے ہوئے اضطباع کی سنت کی ادائیگی کے لئے کھولا تھا، اس کو احرام کے کپڑے سے چھیالیں، اگر کندھا کھلا ہونے کی حالت میں نماز پڑھی تو نماز مکروہ تنزیہی ہوئی جس کا اعادہ مستحب ہے کیونکہ وہ لباس جس میں آدمی معروزین کے سامنے پہن کر نہ جاتا ہو اس میں نماز مکروہ تنزیہی ہوتی ہے جیسے پاجامے کے اوپر صرف بنیان پہن کر معروزین کے سامنے جانا معیوب سمجھا جاتا ہے اور بنیان پہن کر نماز مکروہ تنزیہی ہوتی ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.