Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

قعدۂ اَخیرہ میں شامل ہونے سے پہلے امام نے سلام پھیر دیا تو نمازی کیا کرے؟

Issued
ماہنامہ فیضان مدینہ جولائی 2017

Question

دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیافرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ امام قعدہ اخیرہ میں ہے، زید آیا، اللہ اکبر کہہ کر نیت باندھی اور تشہد میں بیٹھنے کے لئے حدر کوع تک بھی نہ جھکا تھا کہ امام نے سلام پھیر دیا، اب زید کے لئے کیا حکم ہے؟ قعدہ کرے اور تشہد پڑھ کر کھڑا ہو یا کھڑا رہ کر ہی پہلی رکعت سے نماز کا آغاز کرے؟ سائل: نور الحسن ( ننکانه ) قاری ماہنامہ فیضان مدینه

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں زید کو جماعت نہیں ملی اور نہ ہی اس کی اپنی اکیلے کی نماز شروع ہوئی بلکہ اس کو نئے سرے سے نماز پڑھنی ہو گی اس کی وجہ یہ ہے کہ اقتدا کا مطلب ہے مقتدی کا امام کی نماز میں شریک ہونا اور شرکت اسی صورت میں ہو گی کہ امام جس رکن نماز کو ادا کر رہا ہے نماز کے اس حصہ اور رکن میں مقتدی بھی شریک ہو جائے، تو چونکہ زید کے تشهد (یعنی التحیات) میں بیٹھنے سے قبل ہی امام نے سلام پھیر دیا تو مقتدی کو قعدہ امام کے ساتھ نہ مل سکا اس لئے اس کی اقتدا درست نہ ہوئی اور چونکہ اس نے اپنی اس نماز کو اکیلے پڑھنے کے بجائے مقتدی کی حیثیت سے شروع کیا تھا اور اقتدا درست نہ ہوئی اس لئے اس کی اپنی انفرادی…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.