Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
وضو اور غسل میں داڑھی دھونے کا شرعی حکم
- Issued
- ماہنامہ فیضان مدینہ جون 2017
Question
دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ وضو اور غسل کے دوران داڑھی دھونے کا کیا حکم ہے؟
Answer (beginning)
داڑھی خواہ کھنی ہو یا چھوری یعنی ہلکی ، غسل فرض ہونے کی صورت میں اس کے ہر ہر بال کانوک سے جڑ تک کھال سمیت دھونا فرض ہے البتہ وضو میں چہرے کی حدود میں داڑھی کے بال گھنے نہ ہوں یعنی بالوں کی جڑیں اور کھال بھی ظاہر ہوتی ہو تو اب چہرے کی حد میں موجود داڑھی کے بال مع کھال دھونا فرض ہے اور جو بال چہرے کے حدود سے نیچے ہوں ان بالوں کا دھونافرض نہیں۔ ان کا مسح سنت ہے اور دھونا مستحب ہے۔ اگر داڑھی کے بال گھنے ہوں کہ گھنے پن کی وجہ سے بالوں کی جڑیں اور کھال نظر نہ آتی ہو تو اب بالوں کی جڑیں اور کھال کا دھونا فرض نہیں بالوں کا دھونا فرض ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.