Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بیوہ کی عِدّت اورغیر شرعی وصیت پر عمل کرنا کیسا؟

Issued
ماہنامہ فیضان مدینہ مئی 2017ء

Question

دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری بڑی بہن کے شوہر کا انتقال ہو گیا ہے انہوں نے اپنی زندگی ہی میں میری بہن کو یہ وصیت کی تھی کہ فقط چالیسویں تک عدت کرنا، اب میری بہن اور گھر کے دیگر افراد کا کہنا ہے کہ چالیسویں تک ہی عدت ہوگی کیونکہ شوہر نے اس کی وصیت کر دی تھی مجھے معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا شوہر کی اس وصیت پر عمل کیا جائے گا یا نہیں ؟ اور جس عورت کے شوہر کا انتقال ہو جائے اس کی عدت کتنی ہوتی ہے ؟ نوٹ : عورت حمل سے نہیں ہے۔

Answer (beginning)

عورت کے شوہر کا انتقال ہو جائے اور وہ حمل سے نہ ہو تو اس کی عدت 4 ماہ 10 دن ہے یہ اس کو مکمل کرنا ہوں گے اور شوہر کی وصیت چونکہ غیر شرعی ہے لہذا اس پر عمل نہیں کیا جائے گا کیونکہ وصیت کا حکم ہی یہی ہے کہ اگر کسی ایسے کام کی وصیت کی جو شریعت مطہرہ کے قوانین کے خلاف ہو تو مرنے والے کی ایسی وصیت کا کوئی اعتبار نہیں یعنی اس پر عمل نہیں کیا جائے گا۔ اللہ تعالی قرآن مجید فرقان حمید میں ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَ الَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجَايَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍو عَشْرًا) ترجمة کنزالایمان: اور تم میں جو مریں اور بیبیاں چھوڑیں وہ چار مہینے دس دن اپنے…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.