Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
دعا سے تقدیر بدل جاتی ہے؟ تقدیر کی اقسام و تعریف
- Issued
- ماہنامہ فیضان مدینہ اپریل2017ء
Question
(دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ سنا ہے کہ دعا سے تقدیر بدل جاتی ہے کیا یہ بات درست ہے ؟ تقدیر کی تین قسمیں ہیں:
Answer (beginning)
(1) مریم حقیقی، جو کسی دعا یا عمل سے نہیں بدل سکتی۔ (2) تقدیر معلق مشابہ منزروم محل ملائکہ میں بھی نہیں لکھا ہوتا ہے یہ کس دعا یا عمل سے بدلے گی البتہ خواص اکابر کی اس تک رسائی ہوتی ہے۔ اسی کے متعلق حدیث پاک میں ہے: إِنَّ الدُّعَايَرُةُ القَضَاءَ بَعْدَ مَا أَبْرَمَ ، یعنی دعا قضائے مریم ( معلق مشابہ مبرم) کو ٹال دیتی ہے۔ (کنز العمال، 28/1 جزء ثانی، بالفاظ متقاربت (3)" تقدير معلق مخض“ یہ قسم صحف ملائکہ میں لکھی ہوتی ہے کہ کس دعا یا عمل سے یہ تقدیر بدل سکتی ہے اس تک اکثر اولیاء کی رسائی ہوتی ہے ان کی دعا سے ان کی ہمت سے مل جاتی ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.