Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

تعزیت سے متعلق احکام

Issued
ماہنامہ فیضان مدینہ اپریل2017ء

Question

دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ان مسائل کے بارے میں کہ (1) تین دن بعد تعزیت کا حکم کیا ہے مگر وہ تنزیہی یا تحریمی ؟ (2) کلمات تعزیت کیا ہیں۔ کیا کلمات دعاء اور صرف یہ کہنا آپ کی والہ کا پتا چلا اللہ پاک مغفرت فرمائے یہ کلمات تعزیت ہیں یا نہیں ؟ (3) تعزیت کا مقصد کیا ہے اور یہ کیوں کی جاتی ہے؟

Answer (beginning)

(1) تعزیت کا وقت وفات سے تین دن تک ہے افضل یہ ہے کہ پہلے ہی دن تعزیت کی جائے۔ البتہ جس شخص کو فوتگی کا علم نہ ہو تو وہ بعد میں بھی تعزیت کر سکتا ہے۔ باقی لوگوں کے لئے تین دن بعد تعزیت کرنا مکروہ تنزیہی ہے۔ سیدی اعلیٰ حضرت کو تعلی علیہ ارشاد فرماتے ہیں: ” پہلے ہی دن ہونا بہتر و افضل ہے فی الدر المختار اولُهَا أَفضَلُهَا یعنی ایام تعویت، یعنی تعزیت کے ایام میں سب سے افضل پہلا دن ہے۔ (فتاوی رضویہ، 395/9) (2) تسلی اور دُعا دونوں طرح کے الفاظ تعزیت کے کلمات کہلاتے ہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.