Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

محافل کا چندہ مسجد میں دینا کیسا؟

Answered by
مفتی هاشم صاحب مدظله العالی
Issued
ماہنامہ فیضان مدینہ مارچ2017ء

Question

(دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ (1) مسجد کی انتظامیہ محفل میلاد النبی من الله تعال علیہ والہ سٹہ کے لئے اور دیگر محافل کے لیے جو چند واکٹھا کرتی ہے اس میں سے محفل کے آخراجات کے بعد جو چندہ بچ جائے اسے مسجد کے پیسوں میں جمع کر سکتی ہے یا نہیں ؟ (2) اگر محفل کے لئے جمع کیا گیا چندہ کم پڑ جائے تو کیا مسجد کے پیسوں سے اس کمی کو پورا کیا جاسکتا ہے یا نہیں ؟ جبکہ ہمارے ہاں عام طور پر محافل کے لیے الگ سے چندہ کیا جاتا ہے، مسجد کے چندے سے محافل نہیں کی جاتیں۔

Answer (beginning)

سائل: محمد الیاس عطارمی (مرکز الاولیالاہور) (1) اس باقی ماندہ (یعنی باقی بچے ہوئے) چندے کو اس طرح مطلقا مسجد کے پیسوں میں جمع کرنا جائز نہیں بلکہ اس طرح کے چندے میں کچھ تفصیل ہوتی ہے جو درج ذیل ہے کہ اولاً جن لوگوں نے یہ چندہ دیا تھا ان کو حصہ کر سد کے مطابق واپس کرنا فرض ہے یاوہ جس کام میں کہیں اس میں لگادیا جائے، اُن کی اجازت کے بغیر کسی دوسرے کام میں استعمال کرنا حرام ہے اور اگر وہ فوت ہو چکے ہوں تو ان کے ورثا کو واپس کیا جائے اور اگر چندہ دینے والوں کا علم نہ ہو یا یہ معلوم نہ ہو سکے کہ کس سے کتا لیا تھا تو جس کام کے لئے چندہ لیا تھا اسی طرح کے دوسرے کام میں استعمال کریں اور اگر اس طرح کا…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.