Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نمازِجنازہ میں چوتھی تکبیرکے بعد ہاتھ چھوڑنا
- Answered by
- مفتی هاشم صاحب مدظله العالی
- Issued
- ماہنامہ فیضان مدینہ مارچ2017ء
Question
دَارُ الإِفْتَاء أَبْلَسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہم شروع سے نماز جنازہ پڑھتے آرہے ہیں اور چو تھی تکبیر کے بعد جب امام دائیں طرف سلام پھیرتا ہے تو دایاں ہاتھ اور جب بائیں طرف سلام پھیرتا ہے تو بایاں ہاتھ چھوڑ دیتے تھے ، پچھلے دنوں ایک شخص نے جنازہ پڑھایا تو اس نے کہا کہ جیسے ہی چوتھی تکبیر ہو دونوں ہاتھ چھوڑ دیئے جائیں، اس کے بعد سلام پھیریں، آپ یہ ارشاد فرمائیں کہ کونسا طریقہ صحیح ہے؟
Answer (beginning)
صحیح یہ ہے کہ جیسے ہی امام جنازہ کی چوتھی تکبیر کہے تو دونوں ہاتھ چھوڑ دیں پھر اس کے بعد سلام پھیریں، وجہ اس کی یہ ہے کہ قیام میں جہاں ٹھہرنا ہوتا ہے یا جہاں ذکر و تلاوت کرنی ہوتی ہے وہاں ہاتھوں کو باندھیں گے اور جہاں ایسا معاملہ نہیں ہے وہاں ہاتھ نہیں باندھیں گے اور چوتھی تکبیر کے بعد چونکہ کچھ ذکر واذکار نہیں کرنا ہوتا اور نہ ہی مزید ٹھہرنا ہوتا ہے بلکہ تکبیر کے فوراًبعد سلام پھیرنا ہوتا ہے ، اس لئے یہاں ہاتھ باندھنے کی حاجت نہیں جس طرح کہ عیدین کی تکبیرات زائدہ ( زائد تکبیروں) کے دوران کچھ نہیں پڑھنا ہوتا اس لئے وہاں ہاتھ نہیں باندھتے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.