Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
”یہ تو قیمتِ خرید بھی نہیں ہے“...یہ جملہ کہنا کیسا؟
Question
دَارُ الإِفْتَاء أَبْلَسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ کاروبار کے دوران چیز بیچتے ہوئے یہ بولنا کیسا ہے کہ یہ میری خرید بھی نہیں حالانکہ اس کی خرید اس سے سستی ہوتی ہے تو اس طرح چیز بیچنا جائز ہے یا ناجائز؟
Answer (beginning)
یہ عمل جھوٹ پر مشتمل اور ناجائز ہے۔ اس طرح کی گئی تجارت میں اگر دھوکا نہیں پایا گیا مثلاً قیمت خرید میں جھوٹ تو بولا لیکن جو اس چیز کا مارکیٹ ریٹ ہے اسی ریٹ پر دیا ہے اور بیچ مرابحہ بھی نہیں ہے تو خرید و فروخت جائز ہے اور آمدنی بھی حلال ہو گی البتہ جھوٹ بولنے کا قبیح عمل پایا گیا۔ لیکن اگر دھوکا بھی پایا گیا جیسے یہ کہا کہ یہ چیز تو ہزار روپے کی ہے حالانکہ اس کی مارکیٹ ویلیو پانچ سو روپے کی ہو تو یہاں جھوٹ بھی ہے اور دھوکا بھی، اور دھوکے میں حقوق العباد کا معاملہ بھی آجائے گا اور آمدنی پر بھی اس کا اثر پڑے وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَّوَجَل وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.