Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مسجد میں اسکول کی کلاس لگانا کیسا؟
- Fatwa no.
- 6082:Lar
Question
دَارَ الإِفْتَاء أبلسنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک مسجد کے ہال میں صبح 8 سے 12 بجے تک تیسری کلاس تک کے بچوں کے لیے اسکول کی کلاسیں قائم کی جاتی ہیں۔ جن میں پڑھانے والے تنخواہ پر پڑھاتے ہیں۔ اور بچے نا سمجھ ہوتے ہیں جو مسجد میں شور و غل کرتے ہیں، ننگے پاوں لیٹرین میں جاتے اور پھر بغیر دھوئے اسی طرح مسجد میں آجاتے ہیں۔ شرعی رہنمائی فرمائیں کہ اس طرح مسجد میں اسکول کی کلاسیں لگا ناشر عا جائز ہے یا نہیں؟
Answer (beginning)
شر عا مسجد میں اسکول کی کلاسیں لگا نانا جائز و ممنوع ہے کہ یہ دنیاوی کام ہے، کاروبار ہے اور یہ کام مسجدوں میں کرنے کی اجازت نہیں اور نہ مسجد میں ان کاموں کے لیے بنائی جاتی ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے ذکر اور نماز کے لیے بنائی جاتی ہیں نیز اس میں مسجد کی بجلی و جگہ کو غیر محل میں استعمال کرنا ہے اور مسجد کی چھوٹی سے چھوٹی چیز کو اس کے مصرف کے علاوہ میں استعمال کر نانا جائز و حرام ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.