Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا بوڑھی عورت کا بغیر محرم کے عمرہ کرنا جائز ہے؟
- Fatwa no.
- 11954:kan
- Issued
- 102 محرم الحرام 1438ھ /04اکتوبر 2016ء
Question
دَارَ الإِفْتَاء أبلسنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ میری بڑی بہن (بیوہ) جن کی عمر تقریباً 65 سال ہے وہ بغیر کسی محرم کے عمرے کی ادائیگی کے لئے جارہی ہیں۔ میری بہن کو یہ کہا گیا ہے کہ اس عمر میں محرم کی پابندی نہیں ہے۔ ان کے ساتھ ان کی دیورانی اور کچھ خواتین اور ان کے ایک عزیز اپنی بیوی کے ہمراہ جارہے ہیں۔ کیا اس طرح میری بہن بغیر محرم شرعی سفر کر کے عمرے کی ادائیگی کے لئے جا سکتی ہیں؟
Answer (beginning)
جس عورت کو عمرہ یا کسی اور کام کے لئے شرعی سفر کرنا پڑے (شرعی سفر سے مراد تین دن کی راہ یعنی تقریباً 92 کلو میٹر یا اس سے زائد سفر کرناپڑے بلکہ خوف فتنہ کی وجہ سے تو علماء ایک دن کی راہ جانے سے بھی منع کرتے ہیں ) تو اس کے ہمراہ شوہر یا محرم ہو نا شرط ہے ، اس کے بغیر سفر کرنانا جائز حرام ہے خواہ عورت جوان ہو یا بوڑھی، لہذا آپ کی بہن کا بغیر محرم کے عمرے کے لئے جانا جائز نہیں۔ اگر گئیں تو گنہگار ہوں گی اور ان کے ہر قدم پر گناہ لکھا جائے گا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.