Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

موزوں پر مسح کا ایک اہم مسئلہ

Issued
ماہنامہ فیضان مدینہ فروری مارچ 2019

Question

دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ اگر موزے وضو کے بعد پہنے ہوں اور بعد میں اُتار کر پھر پہن لیں تو کیا اب ان پر مسح ہو سکتا ہے؟ نیز اگر موزے پر مسح کیا ہے تو موزہ اتارنے سے مسح ٹوٹے گا یا وضو ہی ٹوٹ جائے گا؟ اور مسح کن کن چیزوں سے ٹوٹتا ہے؟

Answer (beginning)

وضو کرنے کے بعد اگر موزے پہن لئے جائیں تو مقیم شخص کو ایک دن ایک رات اور مسافر کو تین دن تین راتیں آئندہ وضو کے دوران پاؤں دھونے کے بجائے اس موزے پر مسح کرنے کی اجازت ہے اور اس کا جواز حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے قولاً و فعلا دونوں طرح ثابت ہے۔ یہاں موزے سے مراد وہ موزہ ہے جو چمڑے کا ہو یا جس کا صرف تلا چمڑے کا اور باقی کسی اور دبیز چیز کا جیسے کر چچ وغیرہ کا ہو۔ البتہ عام طور پر جو سوتی یا اونی موزے پہنے جاتے ہیں اُن پر مسح جائز نہیں ان کو اتار کر پاؤں دھونا فرض ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.