Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا قربانی کا گوشت محرم میں کھا سکتے ہیں؟

Answered by
مفتی فضیل صاحب مدظله العالی
Issued
ماہنامہ فیضان مدینہ ستمبر اکتوبر 2018

Question

دَارَ الإِفْتَاء أَبْلَسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ میرے گھر میں قربانی کا گوشت پڑا ہوا ہے۔ چند دن پہلے میرا ایک عزیز گھر میں آیا اس نے بتایا کہ قربانی کا گوشت محرم سے پہلے پہلے ختم ہو جانا چاہئے محرم میں قربانی کا گوشت کھانا گناہ ہے۔ میری رہنمائی فرمائیں کہ قربانی کا گوشت کب تک کھا سکتے ہیں کیا واقعی محرم میں کھانا گناہ ہے؟

Answer (beginning)

مستحب یہ ہے کہ قربانی کے گوشت میں سے خود بھی کھائے اور دوسروں کو بھی کھلائے اور افضل یہ ہے کہ سارے گوشت کے تین حصے کئے جائیں ایک حصہ فقرا کو اور ایک حصہ دوست واحباب کو دے اور ایک حصّہ اپنے گھر والوں کیلئے رکھ لے۔ اگر سارا گوشت اپنے گھر میں رکھا اور استعمال کر لیا تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں اور جب تک چاہیں رکھ سکتے ہیں استعمال کر سکتے ہیں محرم سے پہلے پہلے ختم کرنا شرعاً ضروری نہیں، ابتداء اسلام میں تین دن سے زیادہ رکھنے کی ممانعت تھی جو بعد میں منسوخ ہو گئی۔ لہذا قربانی کرنے والا یا جسے وہ دے جب تک چاہیں استعمال کر سکتے ہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.