Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
شراب پینے سے کب وضو ٹوٹے گا؟
- Issued
- ماہنامہ فیضان مدینہ اگست 2018ء
Question
دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا شراب کا ایک قطرہ پینے سے بھی وضو ٹوٹ جائے گا؟
Answer (beginning)
شراب کا ایک قطرہ پینا بھی حرام ہے اور شراب ناپاک بھی ہوتی ہے لہذا منہ یا لباس یا جسم کا جو بھی حصہ مجموعی یا متفرق طور پر اتنا آلودہ ہو کہ درہم کی مقدار کو پہنچے تو نماز پڑھنا جائز ہی نہ ہو گا اور پڑھ لی تو اعادہ واجب ہو گا اور اگر آلودہ حصہ درہم کی مقدار سے زیادہ ہوا تواصلاً نماز ہی نہ ہو گی۔ رہی بات وضو ٹوٹنے کی تو کسی خارجی ناپاکی کے لگنے سے وضو نہیں ٹوٹتا بلکہ جسم سے ناپاک چیز نکلنے پر وضو ٹوٹا کرتا ہے اپنی تفصیل کے ساتھ ۔ البتہ اتنی مقدار میں شراب یا کسی نشہ آور چیز کا پینا یا استعمال کرنا جسے لینے کے بعد اتنا نشہ چڑھ جائے کہ چلنے میں پاؤں لڑکھڑائیں وضو کو توڑ دیتا ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.