Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مضاربت ختم کرنی ہے تو کیا مضارب خریدا ہوا مال بیچ سکتا ہے؟

Fatwa no.
848:Aqs
Issued
04 محرم الحرام 1438ھ /06 اکتوبر 2016ء

Question

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ مجھے ایک آدمی نے بطور مضاربت کچھ رقم دی جس سے میں کاروبار کر رہا ہوں، اب وہ شخص مضاربت ختم کرنا چاہتا ہے جبکہ میرا کہنا ہے کہ دکان میں اچھا خاصہ مال جو بڑی محنت سے میں نے خریدا ہے اس کو فروخت کر لوں اور ایک دو مہینے بعد ہم پرافٹ آپس میں تقسیم کر لیں گے یوں کرنے سے دکان میں موجود مال کو بیچنے پر کافی نفع حاصل ہو گا تو ایسی صورت میں ہماری رہنمائی فرمائیں کہ مجھے اس چیز کا اختیار ہے کہ ابھی فورا کار و بار بند نہ کروں یہاں تک کہ اس مال میں سے نفع حاصل کر لوں اور نفع ہمارا آدھا آدھا طے ہوا تھا؟ سائل : محمد اشفاق (زینب مارکیٹ کراچی)

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں اتنا تو آپ کو اختیار حاصل ہے کہ پہلے سے خریدا ہوا مال بیچ کر اپنا نفع حاصل کر لیں اس سامان کو بیچنے سے رب المال ( یعنی مضاربت میں رقم لگانے والا ، مالک ) منع نہیں کر سکتا، البتہ رب المال کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ مضارب ( کام کرنے والے) کو کاروبار سے روک دے اور معزول کر دے، اب اسے مزید کوئی خرید و فروخت کرنے کی اجازت نہیں ، بس پہلے سے موجود سامان کو فروخت کرنے کی اجازت ہے وہ چاہے ایک دن میں فروخت ہو جائے یا دس ہیں یا ایک مہینہ لگ جائے ، مگر مضارب اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کو مزید آگے خرید و فروخت میں نہیں لگا سکتا، بس یوں ہی موقوف کر کے حساب کتاب کرنا ہو گا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.