Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مال بیچنے کے لیے سچی قسم کھانے کا شرعی حکم

Issued
ماہنامہ فیضان مدینہ جون 2018ء

Question

دَارُ الإِفْتَاء أَبْلَسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ سچی قسم کھا کر مال بیچا جا سکتا ہے ؟ بعض اوقات کسٹمر کہتا ہے کہ قسم کھاؤ کہ تم نے یہ چیز اتنے میں خریدی ہے تو کیا ہم سچی قسم کھا سکتے ہیں؟

Answer (beginning)

66 کچی قسم کھانا گناہ نہیں بلکہ جائز ہے اور ضرور تا سچی قسم کھانے کی اجازت بھی ہے۔ قسم کا معنی ہے تا کید اور اپنے کلام کو پختہ و مؤکد کرنے کے لیے قسم کھائی جاتی ہے لیکن کاروبار میں قسم کھانا معیوب بات ہے۔ حدیث پاک میں ہے: "مَنْ أَن قَتَادَة الأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم ، يَقُولُ: إِيَّاكُمْ وَكَثْرَةَ الْحَلِفِ فِي الْبَيْعِ، فَإِنَّهُ يُنَفِّقُ ثُمَّ يَنحَق “ ترجمہ : حضرت سید نا ابو قتادہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو فرماتے سنا کہ بیع میں قسم کی کثرت سے پر ہیز کرو کہ یہ ا گر چه چیز کو بکو ادیتی ہے مگر…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.