Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نیلامی کے ذریعے مال بیچنا کیسا؟

Issued
ماہنامہ فیضان مدینہ جون 2018ء

Question

دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ بازار وغیرہ میں سامان رکھ کر بولی لگائی جاتی ہے کوئی شخص ایک قیمت پر خریدنے کیلئے تیار ہو جائے تو دوبارہ اس سے زیادہ کیلئے بولی لگائی جاتی ہے اس طرح یہ معاملہ چلتارہتا ہے آخر میں اس کے ہاتھ چیز فروخت کر دی جاتی ہے جو سب سے زیادہ قیمت پر لینے کو راضی ہوتا ہے ایسا کرنا کیسا ہے ؟

Answer (beginning)

بعض اوقات کسی چیز کو نیلامی کے ذریعے بیچا جاتا ہے یہ طریقہ بھی فی نفسہ جائز ہے البتہ نیلامی کے کام میں بھی بہت ساری شرعی خرابیاں لوگوں نے داخل کر دی ہیں ان سے بچنا بھی ضروری ہے۔ نیلامی کے ذریعے زیادہ قیمت کی بولی دینے والے کو چیز بیچنا خود رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ نے ایک صحابی کی مدد کے لئے ان کا پیالہ وغیرہ نیلامی کے طریقے پر زیادہ بولی لگانے والے کو بیچا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.