Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا پلاٹ خریدنے پر بھی کوئی عیب نکل سکتا ہے؟
- Issued
- ماہنامہ فیضان مدینہ جون 2018ء
Question
دَارُ الإِفْتَاء أَبْلَسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ہم نے ایک پلاٹ یہ کہہ کر بیچا کہ اس میں کوئی فالٹ (عیب) نہیں ہے اور بیعانہ بھی ہو گیا اس کے بعد پلاٹ میں کوئی فالٹ نکل آیا تو اس کو ٹھیک کروانے کی ذمہ داری کس کی ہوگی ؟ ہماری یا پھر خریدار کی؟
Answer (beginning)
پلاٹ میں عیب کی کئی صورتیں ہو سکتی ہیں مثلا کا غذات میں کوئی پیپر کم ہے یا پلاٹ خریدنے کے بعد پتا چلا کہ بیچنے والے کی فیملی نے کورٹ میں کیس کیا ہوا ہے کہ یہ پلاٹ تو ہمارے والد کا ہے وراثت کا ہے اور ایک پارٹی نے بیچ دیا ہے یا پھر یہ کہہ کر پلاٹ بیچا گیا کہ یہ پلاٹ لیز کا ہے لیکن بعد میں پتا چلا کہ ابھی تک اس کی لیز جنگ نہیں ہوئی ہے۔ عیب کی تعریف ہی یہ ہے کہ جس کے پائے جانے پر تاجروں کے عرف میں اس چیز کی قیمت کم ہو جائے جیسا کہ کار کی خریداری میں اگر نمبر پلیٹ ڈپلیکیٹ ہو اور اصل گم ہو گئی ہو تو عام طور سے کم از کم پچاس ہزار قیمت کم ہو جاتی ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.