Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
امام کے پیچھے تشہد مکمل کریں یا امام کی پیروی کریں؟
- Fatwa no.
- 852:Aqs
Question
دَارَ الإِفْتَاء أبلسنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ امام ظہر کی نماز میں دوسری رکعت کا تشہد پڑھ کر کھڑا ہو گیا اور مقتدی کا تشہد ابھی مکمل نہیں ہوا تو کیا ایسی صورت حال میں مقتدی تشہد مکمل کرے یا امام کی پیروی کرے رہنمائی فرمائیں؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں مقتدی پر لازم ہے کہ وہ تشہد پوری پڑھے اور پھر کھڑا ہو اور امام کے ساتھ شریک ہو جائے ، کیونکہ تشہد کا پڑھنا واجبات میں سے ہے اور جب کسی واجب کی ادائیگی کرنے سے امام کی پیروی میں تاخیر لازم آتی ہو تو وہ واجب نہیں چھوڑا جائے گا بلکہ واجب کی ادائیگی کے بعد امام کی پیروی کی جائے گی اور امام کی پیروی کرنے میں یہ تاخیر ضرورت شرعی کی بنا پر ہے لہذا اس میں کچھ حرج نہیں اور کوشش کرے تشہد جلد پورا پڑھ کر امام کے ساتھ مل جائے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.