Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

دوسری شادی کی صورت میں جرمانے کی شرط لگانا

Issued
ماہنامہ فیضان مدینہ اکتوبر نومبر 2018

Question

دَارَ الإِفْتَاء أَبْلَسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ نکاح فارم میں یہ شرط لگانا کیسا ہے کہ اگر شوہر نے طلاق دی یاد وسری شادی کی تو دولاکھ روپے کی رقم دینی پڑے گی ؟

Answer (beginning)

یہ صورت تعزیر بالمال یعنی مالی جرمانے میں آتی ہے یوں لکھوانا جائز نہیں ہے۔ البتہ اس طرح کی رقم مہر کے طور پر لکھوائی جاسکتی ہے ، نکاح نامہ میں مہر کا کالم موجود ہوتا ہے اور مہر ہمارے یہاں دو طرح سے لکھا جاتا ہے ایک یہ ہوتا ہے کہ فوری دیا جائے اور ایک وہ ہوتا ہے جو فوری نہیں دیا جاتا بلکہ طلاق ہو جائے یا شوہر کی وفات ہو جائے تو تر کے سے دیا جاتا ہے۔ دونوں صورتوں میں سے کسی بھی قسم میں مہر کے طور پر لکھوایا جا سکتا ہے کہ شوہر نے بیوی کے لئے اتنا مہر مقرر کیا ہے مہر چاہے کتنا ہی مقرر کر لیں کوئی منع نہیں ہے قرآن پاک کی واضح آیت موجود ہے لیکن الگ سے لکھوانا کہ اگر طلاق دے دی تو اتنے پیسے اور دینے…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.