Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

رخصتی میں تاخیر کرنا کیسا؟

Issued
ماہنامہ فیضان مدینہ اکتوبر نومبر 2018

Question

دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ ابھی صرف نکاح ہوا اور رخصتی آٹھ نو مہینوں بعد یا ایک دوسال کے بعد ہو۔ تو کیا شرعی طور پر ر شخصتی میں تاخیر کرنا صحیح ہے ؟

Answer (beginning)

فریقین میں باہمی رضامندی سے اگر یہ طے ہو کہ ابھی فقط نکاح کیا جارہا ہے ، رخصتی بعد میں طے شدہ وقت پر کی جائے گی تو مصلحاح رخصتی میں تاخیر کرنے میں شرعا کوئی حرج نہیں ہے۔ نکاح کے بعد کسی بھی ایک فریق کو بے حاضر نہیں کرنی چاہئے اگر وقت سے پہلے رخصتی کا ارادہ ہو تو باہم رضامندی اور خوش اسلوبی سے معاملے کو حل کر لینا چاہئے۔ مصلحت رخصتی میں تاخیر کا جواز بخاری شریف ودیگر کتب میں موجود حدیث شریف سے ثابت ہے کہ سرکار دو جہا صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ وسلم کا حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ طیبہ طاہر ورضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ساتھ ہجرت سے قبل مکہ مکرمہ میں فقط نکاح ہوا تھا اور ر شخصتی تین سال کے بعد مدینہ منورہ…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.