Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

اٹیچ باتھ میں وضو کی دعا وغیرہ پڑھنا کیسا؟

Issued
ماہنامہ فیضان مدینہ اکتوبر نومبر 2018

Question

دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ آج کل گھروں میں اٹیچ باتھ ہوتے ہیں اور اسی میں لوگ وضو بھی کرتے ہیں تو سوال یہ ہے کہ وضو سے پہلے ایسے ایچ ہاتھ میں

Answer (beginning)

عمومی طور پر ایسے باتھ روم اور ٹوائلٹ کے درمیان کوئی دیوار یا بڑا دروازہ وغیرہ اس انداز میں نہیں لگا ہوتا کہ جس کے سبب دونوں مقام الگ الگ شمار ہوں لہذا ایسے اٹیچ ہاتھ میں وضو کرنے سے پہلے بسم اللہ شریف یا دوران وضو پڑھی جانے والی دعائیں، وظائف نہیں پڑھ سکتے ۔ اور اگر اٹیچ ہاتھ اس انداز سے بنا ہوا ہو کہ ٹوائلٹ اور ہاتھ روم کے درمیان کوئی دیوار ، دروازہ، یا پھر لو ہے یا لکڑی کی چادر ، شیٹ لگادی جائے کہ ٹوائلٹ اور باتھ روم جدا جدا حیثیت اختیار کر جائیں تو اب ہاتھ روم میں وضو کرتے ہوئے ذکر و وظائف اور دعائیں پڑھ سکتے ہیں کہ اب یہ موضع نجاست نہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.