Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
قرض لی جانے والی رقم کو موجودہ ویلیو پر لوٹانا؟
- Issued
- ماہنامہ فیضان مدینہ اکتوبر نومبر 2018
Question
دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کوئی شخص کسی سے پندرہ میں سال پہلے دس لاکھ روپے قرض لے اور اب واپس کرنا چاہتا ہے تو کیا شرعاً اس پر دس لاکھ ہی واپسی کرنا لازمی ہے یا پھر آج کی ویلیو کے حساب سے زیادہ رقم بنتی ہے کیونکہ میں سال پہلے دس لاکھ کی ویلیو بہت زیادہ تھی مگر آجکل وہ ویلیو نہیں ہے ؟ راہنمائی فرمادیں۔
Answer (beginning)
حکم شرعی یہ ہے کہ جتنے روپے بطور قرض لئے تھے اتنے ہی واپس کرنا لازم ہیں اس سے زیادہ نہیں، ویلیو کم ہو گئی ہو یا زیادہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، لہذا میں سال پہلے اگر دس لاکھ روپے قرض لئے تھے تو اب دس لاکھ روپے ہی واپس کرنا لازم ہیں، قرض دینے والے کا زیادہ مطالبہ کرنا جائز نہیں ہے اگر چہ میں سال پہلے دس لاکھ کی ویلیو بہت زیادہ تھی۔ وَاللهُ أَعْلَمُ عَدَ جَل وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِيهِ وَسَلَّم Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaahlesunnat.net Dar-ul-Ifta AhleSunnat f daruliftaahlesunnat DaruliftAhlesunnat feedback@daruliftaahlesunnat.net
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.