Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
وقتِ نکاح دولہا، دلہن سے کلمے سُننا کیسا؟
- Issued
- ماہنامہ فیضان مدینہ اکتوبر نومبر 2018
Question
دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ نکاح کے وقت کسی دولہا یا دلہن سے کلمے نہ سُنے جائیں یاد و تین سے زیادہ وہ کلمے نہ سُنا سکے تو نکاح میں کوئی فرق پڑے گا یا نہیں ؟ وضاحت فرمادیں۔
Answer (beginning)
نکاح میں کلے پڑھنا لازم یا شرط نہیں ہے یعنی یہ سمجھنا کہ اگر کلے نہیں پڑھیں گے تو نکاح منعقد ہی نہ ہوگا، یہ شرعاًدرست نہیں، کیونکہ دو مسلمانوں کا نکاح گواہوں (دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں) کی موجودگی میں ایجاب و قبول کرنے سے ہو جاتا ہے ، اس میں کلمے پڑھنا شرط نہیں۔ البتہ نکاح کے وقت کلمے پڑھنا مستحسن عمل ہے کہ ان کلمات میں اللہ ورسول عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالٰی علیہ والہ وسلم کا ذکر ہے، اور ان کا ذکر نزول برکات کا سبب، خصوصاً اس اہم موقع پر ویسے ہی حصول برکت و سلامتی کے لئے کثرت سے ذکر کرنا مناسب ہے کہ اب سے دونوں کی نئی زندگی کا آغاز ہو رہا ہے ، اور اس کا آغاز اللہ ور سول…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.