Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

پانچ سال کی بچی کو دودھ پلانے سے رضاعت ثابت ہوگی؟

Answered by
مفتی هاشم صاحب مدظله العالی
Fatwa no.
4-6028:lar

Question

دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ ہندہ نے پڑوسن کی بچی کو پانچ سال کی عمر میں اپنادودھ پلا یا تھا، اب وہ بچی بڑی ہو گئی ہے بندہ اپنے بیٹے کا نکاح اس بچی سے کرنا چاہتی ہے یہ نکاح ہو سکتا ہے یا نہیں ؟ اس بچی سے اور کوئی رشتہ وغیرہ بھی نہیں ہے۔ سائل: محمد تنویر عطاری (ضلع خوشاب)

Answer (beginning)

یہ نکاح کرنا جائز ہے کیونکہ حرمت رضاعت ثابت ہونے والی عمر یعنی ڈھائی سال کے بعد دودھ پلایا گیا اس عمر کے بعد حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوتی اگرچہ کہ دو سال بعد دودھ پلا نا حرام ہے لہذا ہندو پر لازم ہے کہ اپنے اس فعل سے تو بہ کرے۔ وَاللهُ أَعْلَمُ عَزوَجَل وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِيهِ وَسَلَّم Dar-ul-Ifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaahlesunnat.net Dar-ul-Ifta AhleSunnat f daruliftaahlesunnat DaruliftAhlesunnat feedback@daruliftochlesunnat.net

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.