Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

غیر مسلم ممالک میں مورگیج پر مکان لینا کیسا ؟

Question

دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے میں کہ میں انگلینڈ میں رہتا ہوں میں نے ایک پراپرٹی خریدنے کے لئے یہاں کے بینک سے مور کیج کے طور پر قرض لیا ہے جس کے میں ماہانہ £700ادا کرتا ہوں جس میں سے مثلاً£50 تو سود کے طور پر اور باقی قرض کی ادئیگی کے طور پر۔ معلوم یہ کرنا تھا کہ کیا اس طرح بینک سے قرض لینا ہمارے لئے جائز ہے ؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں یورپ و امریکہ جیسے غیر مسلم ممالک میں نقد میں پراپرٹی خرید نا بلاشبہ بہت زیادہ مشکل کام ہے۔ سود کو اسلام نے حرام قرار دیا ہے اور کوئی بھی مسلمان دوسرے مسلمان کو سود نہ تو دے سکتا ہے نہ ہی لے سکتا ہے لیکن کافر حربی اور مسلمان کے درمیان سود کے لین دین کا معاملہ مختلف ہے۔ ہدایہ میں ہے: لا ر ہوا بَيْنَ المُسلِم والعنبي “ ترجمہ : مسلمان اور حربی کافر کے درمیان سود نہیں ہوتا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.