Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
تجارت میں منافع کی کیا حد ہے؟
Question
دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ منافع کہ کوئی حد ہے اور اگر ہے تو کیا ہے اور میں سو کی چیز لیتا ہوں تو کتنے کی سیل کر سکتا ہوں کیا میں نو سو کی سیل کر سکتا ہوں؟
Answer (beginning)
صورت مسئولہ میں شریعت اسلامیہ نے تجارت میں باہمی رضا مندی سے ہونے والے نفع کو جائز قرار دیا ہے اس میں کوئی قید نہیں ہے کہ نفع کم ہو یا زیادہ، لہذا آپ اپنی سو روپے والی شے دوسرے کی رضا مندی کے ساتھ نو سو روپے یا اس سے بھی زیادہ کی فروخت کر سکتے ہیں البتہ اس بات کا خیال رکھا جائے کہ سودا کرتے وقت کسی قسم کے جھوٹ یاد ھو کے سے کام نہ لیا جائے۔ یہ تو اس مسئلے کا فقہی حکم تھا لیکن کچھ اخلاقی تقاضے بھی ہیں اور معیشت کا فائدہ بھی اسی میں ہے کہ مناسب ریٹ لگا کر مال بیچا جائے خاص طور پر روزمرہ کی اشیائے ضرورت، تاکہ لوگوں کی قوتِ خرید متاثر نہ ہو۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.