Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
پرائز بانڈ اور اس کے انعام کا حکم؟
Question
دَارَ الإِفْتَاء أَبْلَسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ پرائز بانڈ لینا اور اس سے نکلا ہوا انعام حاصل کرنا جائز ہے یا نہیں لوگ اسے ناجائز کہتے ہیں۔ کیا یہ درست ہے ؟
Answer (beginning)
پرائز بانڈ کی خرید و فروخت اور اس پر قرعہ اندازی کے ذریعہ نکلنے والا انعام حاصل کرنا دونوں ہی درست ہیں کہ اس کے حرام ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔ نہ تو اس میں سود کا پہلو ہے کہ جتنے روپے دے کر بانڈ حاصل کیا ہے ایسا نہیں ہوتا کہ اس پر نفع ملنا مشروط ہو نہ ہی حکومت یہ وعدہ یا معاہدہ کرتی ہے کہ جو جو بھی خریدے گا اسے انعام کی رقم ضرور دی جائے گی لہذا کسی بھی اعتبار سے سود کا کوئی پہلو اس میں نہیں بنتا، نہ ہی پرائز بانڈ کے اندر جوئے کا کوئی پہلو ہے کہ جتنے روپے جمع کروا کر پرائز بانڈ لیا ہے ایسا نہیں کہ یہ روپے وقت گزرنے پر بانڈ دیتے وقت کم ملیں گے یا سرے سے ہی نہیں ملیں گے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.