Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

سینگ کٹے جانور کی قربانی کرنا کیسا؟

Fatwa no.
3-6028:lar

Question

دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ ایک بکرا جس کے پیدائشی سینگ ہیں مگر اس کے سینگ جڑ کے اوپر سے سر کی کھال کے برابر کاٹ دیئے گئے ہیں ان سینگوں کی جڑیں سلامت ہیں، اس کی قربانی جائز ہے یا نہیں؟ جبکہ اس میں قربانی کی دیگر تمام شرائط پوری ہیں۔ سائل : محمد شاہد عطاری (گجرات)

Answer (beginning)

اس بکرے کی قربانی کرنا جائز ہے کیونکہ اس کے سینگ اس طرح سے کاٹے گئے ہیں کہ جڑیں سلامت ہیں البتہ اگر جڑیں سلامت نہ رہتیں تو قربانی نہ ہوتی۔ جب تک زخم نہ بھرتے۔ وَاللهُ أَعْلَمُ مَا مَن وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللهُ تَعَالَ عَلَيْهِ وَالِيهِ وَسَلَّم Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaohlesunnat.net Dar-ul-Ifta AhleSunnat daruliftoahlesunnat f DaruliftAhlesunnat feedback@daruliftaahlesunnat.net

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.