Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مَیِّت کو دوبار غسل دینا

Answered by
مفتی قاسم صاحب مدظله العالی

Question

دَارُ الإِفْتَاء أَبْلَسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بیان میں کہ عوام میں مشہور ہے کہ جب میت کی روح نکلے تو اسے غسل دے دیا جائے پھر دوسری بار جنازہ کے وقت دیں۔ کیا میت کو دو بار غسل دینا درست ہے یا نہیں؟

Answer (beginning)

سائل : قاری ماہنامہ فیضان مدینہ میت کو ایک مرتبہ غسل دینا فرض کفایہ ہے اور اس میں پورے بدن پر تین بار پانی بہانا سنت ہے لیکن یہ ایک ہی غسل ہے، اسکے بعد پھر دوبارہ غسل دینا ثابت نہیں حتی کہ غسل دینے کے بعد میت کے جسم سے کوئی نجاست وغیرہ خارج ہوئی تو اس صورت میں بھی صرف اس جگہ کو دھویا جائے گا، مکمل غسل کے اعادہ کا حکم اس صورت میں بھی نہیں ہوتا۔ لہذا جب ایک مرتبہ بطریق سنت میت کو غسل دے دیا گیا تو اب دوبارہ غسل دینا لغو و فضول ہے ہر گزنہ دیا جائے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.