Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مسجد کی پُرانی دریوں کی خرید و فروخت کرنا کیسا؟

Answered by
مفتی قاسم صاحب مدظله العالی

Question

دَارَ الإِفْتَاء أَبْلَسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیانِ شرع متین اس بارے میں کہ ہماری مسجد میں کچھ دن قبل ایک شخصیت نے نئی دریاں لا کر دیں تو پرانی دریاں اُٹھا کر مسجد کے اسٹور میں رکھ دی گئیں، وہ دریاں مسجد کی حاجت سے زائد ہیں اور آئندہ بھی کسی جگہ استعمال کے قابل نہیں کیونکہ وہ کافی جگہوں سے پھٹ چکی ہیں، اور پڑے رہنے سے مزید خراب ہونے کا اندیشہ ہے،ایک شخص وہ دریاں خریدنا چاہتا ہے، براہ کرم شرعی راہنمائی فرمائیں کہ ان دریوں کو بیچنا اور اس شخص کا انہیں خرید ناشر عاکیسا؟ یادر ہے ! یہ دریاں مسجد کے پیسوں سے خریدی گئی تھیں۔

Answer (beginning)

دریافت کی گئی صورت میں مذکورہ دریوں کو مسجد کے لئے مارکیٹ ریٹ کے مطابق فروخت کرنا، اور کسی دوسرے کا انہیں خرید ناشرعاً جائز ہے، لیکن خریدنے والے کو چاہئے کہ وہ انہیں بے ادبی کی جگہ استعمال کرنے سے بچے۔ تفصیل اس کی یوں ہے کہ مسجد کے پیسوں سے خریدا گیا وہ سامان جو فی الحال مسجد کی حاجت سے زائد ہو اور آئندہ بھی مسجد کے استعمال میں نہ آسکے یا استعمال میں تو اسکے لیکن وقت ضرورت تک پڑے رہنے سے اس کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہو تو اسے مارکیٹ ریٹ کے مطابق فروخت کرنا جائز ہے ، جب فروخت کرنا جائز ہے تو دوسروں کا اسے خرید نا بھی جائز ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.