Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مالِ وِراثت میں اگر حرام و حلال مکس ہو تو کیا کریں؟

Question

دَارُ الإِفْتَاء أَبْلَسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین اس بارے میں کہ ایک شخص کا انتقال ہوا، اس کے مال وراثت میں حلال و حرام مکس ہے، یعنی سُود اور رشوت وغیرہ کا روپیہ بھی اس میں شامل ہے، کچھ رقم کا تو علم ہے کہ وہ فلاں شخص سے رشوت کے طور پر لی گئی تھی اور وہ شخص ابھی تک زندہ ہے، لیکن بقیہ مال کے بارے میں کچھ علم نہیں کہ کتنا یا کون سا مال حرام ذریعے سے حاصل کیا گیا تھا، اب اس کے بیٹے مال وراثت تقسیم کرنا چاہتے ہیں، براہ کرم شرعی رہنمائی فرمائیں کہ بیٹوں کے لئے اس مال وراثت کے متعلق کیا حکم ہے؟

Answer (beginning)

دریافت کی گئی صورت میں جس مال کے بارے میں علم ہے کہ مورث ( یعنی میت) نے فلاں شخص سے بطور رشوت لیا تھا اور وہ ابھی تک زندہ ہے تو ورثاء پر فرض ہے کہ وہ مال اسے واپس کریں، کیونکہ مال رشوت کا حکم یہی ہے کہ جس سے لیا ہو اسے واپس ہی کیا جائے، اور جس مال کا حرام ہو ناجداگانہ معین طور پر معلوم ہے کہ یہ والا مال حرام ہی ہے لیکن کس شخص سے لیا وہ معلوم نہیں تو اس مال کو فقراء کو صدقہ کر دیں اور جس کے بارے میں علم نہیں کہ کتایا کو نسامال حرام کمائی سے ہے بلکہ اجمالاً صرف اتنا معلوم ہے کہ مال وراثت میں حرام مال بھی شامل ہے تو ورثاء کے لئے وہ مال لینا جائز ہے، البتہ اس سے بچنا اور صدقہ کر دینا افضل ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.