Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ٹیوشن پڑھانے والے کو اس دن کا اجارہ لینا کیسا جس دن گھر والوں نے خود چھٹی کروائی ہو؟
- Fatwa no.
- 1037:Aqs
- Issued
- 27 رجب المرجب 1438ھ /25 اپریل2017ء
Question
دَارَ الإِفْتَاء أَبْلَسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ میں مختلف گھروں میں جا کر ٹیوشن پڑھاتا ہوں میرا ان کے ساتھ وقت طے ہے یعنی آدھا گھنٹہ اور بعض کے ساتھ ایک گھنٹہ ، کبھی میں ان کے گھر جاتا ہوں تو وہ پڑھانے سے منع کر دیتے ہیں کہ آج مہمان آئے ہوئے ہیں یا بچے سو رہے ہیں یا ہم نے کہیں جانا ہے وغیرہ تو بچوں کو اس دن پڑھا نہیں پاتا، لیکن مہینے کے آخر میں مجھے وہ اجرت پوری دے دیتے ہیں تو یہ پوری اجرت لینا جائز ہے یا نہیں؟ اور کبھی میں بھی چھٹی کر لیتا ہوں لیکن وہ کاٹتے نہیں ہے بلکہ پوری سیلری دے دیتے ہیں تو وہ لینا کیسا ہے ؟ سائل: قاری طفیل احمد (منظور کالونی، کراچی)
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں سر پرست آپ کو تنخواہ سمیت چھٹی دینے پر خود راضی ہے اور عموما ایسا ہی ہوتا ہے لہذا وہ اجرت لینا بالکل جائز ہے اور اگر سر پرست صرف چھٹی دینے پر راضی ہے، تنخواہ پر نہیں تو ایسی صورت حال میں دیکھا جائے گا کہ آپ نے اپنے آپ کو مقام اجارہ پر اپنی خدمات پیش کرنے کے لئے تسلیم کر دیا ہے یا نہیں ؟ اگر تسلیم نفس کر دیا یعنی جتنا وقت وہاں گزار نا تھاوہ گزارا تو پھر اجرت ملے گی اگرچہ پڑھایا نہ ہو کیونکہ اس میں آپ کی طرف سے کوئی رکاوٹ نہیں ہے اور یہ ایسے ہی ہو گیا جیسے معلم مدرسہ میں حاضر ہے مگر پڑھنے کے لئے کوئی طالبعلم ہی نہیں آیا اور اگر آپ کی طرف سے تسلیم نفس نہ ہوا ہو تو پھر اجرت کے…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.