Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مدرسے کی زمین پر امام یا موذن کی رہائش بنانا کیسا؟
- Fatwa no.
- 6376:Lar
- Issued
- 27 جمادی الثانی 1438ھ /27 مارچ2017ء
Question
دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ ایک مسجد کے ساتھ مدرسہ کے لئے وقف کردہ زمین خالی پڑی ہوئی ہے ، اس زمین میں امام و موذن کی رہائش بنا سکتے ہیں یا نہیں ؟
Answer (beginning)
مدرسہ کے لئے وقف زمین میں امام یا موذن کی رہائش بنانا جائز نہیں کیونکہ یہ وقف کو اُس کی غرض سے ہٹ کر استعمال کرنا ہے اور وقف کو اپنی غرض سے ہٹ کر استعمال کر نانا جائز و حرام ہے وَاللهُ أَعْلَمُ عَزوَجَل وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaahlesunnat.net f daruliftaahlesunnat Darulift Ahlesunnat Dar-ul-Ifta AhleSunnat 目 feedback@daruliftaahlesunnat.net
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.