Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بھائی کی رضاعی بہن سے نکاح کے احکام؟

Fatwa no.
6069:lar

Question

دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ زید نے تین ماہ کی عمر میں ایک بار اپنی خالہ کا دودھ پیا تھا، اب زید کا بھائی بکر چاہتا ہے کہ وہ اپنی اس خالہ کی بیٹی سے شادی کرے، کیا بکر کا اپنی خالہ کی بیٹی سے نکاح کرنا جائز ہے ؟

Answer (beginning)

صورت مسئولہ میں بکر کا اپنی خالہ کی بیٹی سے نکاح کرناشر عا جائز ہے کیونکہ جس بچے نے کسی عورت کا دودھ مدت رضاعت میں پیا ہو ، اس عورت کی اولاد فقط اس دودھ پینے والے پر حرام ہوتی ہے ، اس کے دیگر بہن بھائیوں پر حرام نہیں ہوتی اور ان کا باہم نکاح جائز ہوتا ہے اور صورت مذکورہ میں زید نے مدت رضاعت میں اپنی خالہ کا دودھ پیا تو وہ اسکی رضاعی ماں بن گئی اور زید کا اپنی خالہ کی کسی بیٹی سے نکاح نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ اس کی رضاعی بہنیں بن گئیں جبکہ زید کے بقیہ بہن بھائیوں کا نکاح اپنی خالہ کی اولاد سے کرنا جائز ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.