Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا حقیقی بہن کی رضاعی بہن سے نکاح کرسکتے ہیں؟

Answered by
مفتی فضیل صاحب مدظله العالی
Fatwa no.
12233:Kan
Issued
21 جمادی الثانی 1438ھ /21 مارچ2017ء

Question

دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں شیخ شہزاد ولد شیخ مشتاق، میری بہن نے ایام رضاعت میں خالہ کا دودھ پیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا میر ارشتہ اس خالہ کی بیٹی سے ہو سکتا ہے جبکہ میں نے جس سے نکاح کرنا ہے اس نے میری والدہ کا دودھ سائل : شیخ شہزاد ( اورنگی ٹاؤن، کراچی)

Answer (beginning)

آپ اس خالہ کی بیٹی سے نکاح کر سکتے ہیں کیونکہ حقیقی بہن کی رضاعی بہن سے نکاح حرام نہیں ہوتا۔ حرمت رضاعت کا اصول یہ ہے کہ جس بچی یا بچے نے کسی عورت کا دودھ پیا ہے اس پر رضاعی ماں باپ کی ساری اولاد حرام ہے جبکہ رضاعی ماں باپ کی اولاد پر صرف یہ بچہ یا بچی جس نے دودھ پیا ہے حرام ہے، اس کے باقی بھائی بہن حرام نہیں بشر طیکہ حرمت کا کوئی اور سبب موجود نہ ہو۔ وَاللهُ أَعْلَمُ مَا عَلا وَ رَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَ عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaahlesunnat.net Dar-ul-Ifta AhleSunnat daruliftaahlesunnat…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.