Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
طواف کا آغاز رکن یمانی سے کرنے کا شرعی حکم
- Answered by
- مفتی فضیل صاحب مدظله العالی
- Fatwa no.
- 1836:Mad
- Issued
- 14 جمادی الثانی 1438ھ /14 مارچ2017ء
Question
دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرا ایک جاننے والا شخص عمرے کی سعادت حاصل کرنے کے لیے گیا وہاں جا کر اس نے طواف حجر اسود کی بجائے رکن یمانی سے شروع کیا اور سعی اور حلق کروا کر عمرہ مکمل کیا پھر دوسرے عمرے میں وہ میرے ساتھ تھا ہم نے طواف حجر اسود سے شروع کیا تو اس نے بتایا کہ وہ تورکن یمانی سے طواف شروع کرتا رہا ہے لہذا میں نے اسے بتایا کہ طواف حجر اسود سے شروع ہوتا ہے لیکن پورے مسئلے کا مجھے بھی پتہ نہیں تھا لہذا اب ہم پاکستان واپس آچکے ہیں ہماری اس بارے میں رہنمائی فرمائیں کہ مذکورہ شخص نے جو طواف رکن یمانی سے شروع کیا اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟
Answer (beginning)
سائل : عثمان علی عطاری ( شاہ نور پارک، کوٹ خواجہ سعید لاہور ) طواف کا حجر اسود سے شروع کرنا یہ طواف کے واجبات میں سے ہے اور رکن یمانی سے شروع کرنا یہ ترک واجب ہے جس کا حکم یہ ہے کہ مذکورہ شخص ترک واجب کی وجہ سے گناہگار ہوا جس کی تو بہ اس پر لازم ہے اور جب تک مکہ شریف میں تھا اس طواف کا اعادہ کرنا واجب تھا اور اب جبکہ وطن واپسی ہو چکی ہے تو مذکورہ شخص پر ایک دم زمین حرم میں دینا واجب ہے دم سے مراد ایک بکری اس میں نر مادہ ، دنبہ ، بھیٹر سب شامل ہیں یا اونٹ یا گائے کا ساتواں حصہ اور اس اونٹ یا گائے کا بنیت تقرب ذبح ہونا ضروری ہے اگر چہ باقی حصے دوسری طرح کی قربت کے ہوں اور دم کے جانور کا قربانی…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.