Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا مدرسے کے چندے کےبکس مسجد میں لگا سکتے ہیں؟

Answered by
مفتی هاشم صاحب مدظله العالی
Fatwa no.
6410:Lar
Issued
23 جمادی الثانی 1438ھ /23 مارچ2017ء

Question

ہیں؟ دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ کیا مدرسے کے چندے والے بکس عین مسجد میں لگائے جاسکتے نوٹ : یہ بکس مسجد میں فیکس اسٹینڈ پر لگائے جاتے ہیں ان کا سائز چوڑائی میں اتنا ہے کہ تین نمازی اس جگہ کھڑے ہو سکتے ہیں۔ سائل : محبوب احمد عطاری (فیصل آباد)

Answer (beginning)

مدر سے کے چندے والے مذکورہ بکس عین مسجد میں رکھنا جائز نہیں کہ یہ مسجد کی وقف زمین کا غیر مصرف میں استعمال ہے جو کہ ناجائز ہے۔ بسا اوقات ان بکسرز کے باعث نمازیوں پر جگہ بھی تنگ ہو گی ، اور نمازیوں پر جگہ تنگ کرنا جائز نہیں۔ بکسر ز ر کھنے والوں پر لازم ہے کہ فوراً انہیں مسجد سے اٹھادیں اور اس گناہ سے تو بہ بھی کریں۔ وَ اللهُ أَعْلَمُ عَزوَجَل وَ رَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَ سَلَّم Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaahlesunnat.net f daruliftaahlesunnat DaruliftAhlesunnat Dar-ul-Ifta AhleSunnat feedback@daruliftaahlesunnat.net

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.