Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نمازی کا چہرہ قبلے سے کتنا پھرا ہوا ہوتو نماز ہوجاتی ہے؟
- Fatwa no.
- 6418:Lar
- Issued
- 27 جمادی الثانی 1438ھ / 27 مارچ2017ء
Question
(دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ نمازی کا چہرہ قبلہ سے کتنا پھر اہوا ہو تو نماز ہو جائے گی یعنی کتنے ڈگری کے اندر نماز ہو جاتی ہے نیز قضائے حاجت میں قبلہ سے کتنا مڑ کر بیٹھنا چاہیے ؟ اسی طرح پاؤں پھلانے میں بھی اتنے درجے سے باہر رکھنے ہوں گے یا کچھ اور حکم ہے ؟ سائل : محمد اکمل عطاری ( لاہور ، کینٹ)
Answer (beginning)
جو شخص عین کعبہ کی سمت خاص تحقیق کر کے عین کعبہ کی طرف رخ کر سکتا ہو مثلا وہ مکہ میں ایسے مقام پر ہے جہاں سے کعبہ کو دیکھ سکتا ہے تو اس پر فرض ہے کہ نماز میں عین کعبہ کی طرف رخ کرے اور جسے یہ تحقیق نا ممکن ہوا گرچہ خاص مکہ معظمہ میں ہو ، اس کے لیے جہت کعبہ کو رخ کرنا کافی ہے۔ اعلیٰ حضرت قدس سرہ نے اپنی تحقیق سے ثابت کیا ہے کہ جہت قبلہ ، عین قبلہ سے 45ڈگری دائیں طرف اور 45ڈگری بائیں طرف تک ہے۔ لہذا اگر کسی نے 45ڈگری کے اندر نماز پڑھی تو سمت قبلہ کی طرف نماز پڑھنا کہلائے گا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.