Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
سوتیلی بہن کے بیٹے کی بیٹی سے نکاح کرنا کیسا؟
- Fatwa no.
- 6396:Lar
- Issued
- 11 جمادی الثانی 1438ھ /11 مارچ2017ء
Question
دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ امیر کے سگے ماموں کی بیوی امیر کی سوتیلی بہن ہے یعنی امیر اور اس بہن کا والد ایک ہے لیکن دونوں کی والدہ الگ الگ ہے۔ کیا امیر کے سگے ماموں اور اس سوتیلی بہن سے جو بیٹا پیدا ہوا اس بیٹے کی بیٹی سے امیر کا نکاح ہو سکتا ہے۔ سائل: قاری محمد جمیل فاروقی (لاہور)
Answer (beginning)
امیر کا اپنی سوتیلی بہن کے بیٹے کی بیٹی سے نکاح کرنا جائز نہیں ہے۔ تفصیل اس میں یہ ہے کہ جن کا باپ ایک ہو اور ماں الگ الگ ہو وہ علاقی بہن بھائی کہلاتے ہیں اور جس طرح سگی بہن کی اولاد در اولاد سے نکاح کرنا جائز نہیں ہے اسی طرح علاتی بہن کی اولاد در اولاد سے نکاح کرنا جائز نہیں ہے۔ وَاللهُ أَعْلَمُ مَا جَل وَرَسُولُهُ أَعْلَم عَلى اللَّهُ تَعَالَ عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم Dar-ul-Ifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaahlesunnat.net Dar-ul-Ifta AhleSunnat f daruliftaahlesunnat DaruliftAhlesunnat feedback@daruliftaahlesunnat.net
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.