Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا سوتیلی والدہ کی بہن سے نکاح کرنا جائز ہے؟

Answered by
مفتی هاشم صاحب مدظله العالی
Fatwa no.
6385:Lar
Issued
11 جمادی الثانی 1438ھ /11 مارچ2017ء

Question

دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس بارے میں کہ محمد ارشاد نے صغرہ بی بی سے نکاح کیا، ان کے ہاں ایک بیٹا ہوا جس کا نام محمد نواب ہے۔ پھر محمد ارشاد نے صغرہ کو طلاق دیدی، اور زینب سے نکاح کیا۔ اب محمد ارشاد اپنے بیٹے محمد نواب کا نکاح اپنی زوجہ زینب کی بہن سے کرنا چاہتا ہے، کیا محمد نواب کا نکاح اپنی سوتیلی والدہ ( زینب) کی بہن سے کرنا جائز ہے؟ سائل محبوب احمد ( متعلم جامعہ ہجویر و داتا دربار لاہور)

Answer (beginning)

جی ہاں ! محمد نواب کا اپنی سوتیلی والدہ (زینب) کی بہن سے نکاح کرنا شرعاً جائز ہے جبکہ ان کے درمیان کوئی اور مانع نکاح مثلا حرمت رضاعت یا حرمت مصاہرت و غیرہ قائم نہ ہو۔ یاد رہے کہ سوتیلی خالہ جو حرام ہے اس کے معنی حقیقی یارضاعی ماں کی سوتیلی بہن نہ کہ سوتیلی ماں کی حقیقی یا رضاعی بہن۔ سوتیلی والدہ کی بہن خالہ نہیں لہذا جن عورتوں سے نکاح کی ممانعت ہے یہ ان میں شامل نہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.