Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مسافر کہاں سے نماز میں قصر شروع کرے گا؟

Fatwa no.
6406:Lar
Issued
21 جمادی الثانی 1438ھ/21 مارچ2017ء

Question

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مسافر کس مقام سے نماز میں قصر کرے گا؟ دَارَ الإِفْتَاء أَبْلَسُنَّت (دعوت اسلامی) (1) جب انسان شرعی مسافت کے ارادے سے گھر سے نکلے تو وہ کس مقام سے نماز میں قصر کی ابتداء کرے گا؟ (2) جو شرعی مسافت کے ارادے سے گھر سے نکلاوہ اگر راستے میں مثلا 50 کلومیٹر فاصلہ طے کرنے کے بعد گاڑی تبدیل کرتا ہے یا جاتے جاتے 50 کلومیٹر فاصلہ طے کرنے کے بعد کچھ دیر رک کر اپنا کوئی کام کرتا ہے جبکہ گھر سے نکلتے وقت اس کا ارادہ شرعی مسافت تک جانے کا تھا تو ایسی صورت میں قصر کے احکام باقی رہیں گے یا نہیں ؟ اور اگر وہ گھر سے شرعی مسافت کے ارادے سے نہیں نکلا بلکہ گھر سے نکلتے وقت اس نے یہی نیت کہ میں ابھی 50 کلو میٹر فاصلے پر موجود فلاں مقام تک جارہا ہوں وہاں اپنا کام کروں گا پھر وہاں سے آگے 50 کلو میٹر جانا ہے اس صورت میں وہ نمازوں میں قصر کرے گا یا نہیں ؟ سائل : رمضان (حافظ آباد)

Answer (beginning)

(1) مسافت شرعی کے ارادے سے نکلنے والا قصر کی ابتداء اس وقت سے کرے گاجب بستی کی آبادی سے باہر ہو جائے، شہر میں ہے تو شہر سے ، گاؤں میں ہے تو گاؤں سے اور شہر والے کے لیے یہ بھی ضرور ہے کہ شہر کے آس پاس جو آبادی شہر سے متصل ہے اس سے بھی باہر ہو جائے۔ اسی طرح فنائے شہر یعنی شہر سے باہر جو جگہ شہر کے کاموں کے لیے ہو مثلاً قبرستان، گھوڑ دوڑ کا میدان، کوڑا پھینکنے کی جگہ اگر یہ شہر سے متصل ہو تو اس سے باہر ہو جانا ضروری ہے۔ اور اگر شہر وقتا کے درمیان فاصلہ ہو تو نہیں۔ اور فاصلے سے مراد یہ ہے کہ درمیان میں کھیتی ہو یا جگہ خالی ہے تو کم از کم 300 شرعی گز (دوسرے لفظوں میں 300 قدم) کی مقدار ہو۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.