Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
شادی شدہ عیسائی عورت اسلام قبول کرلے تو نکاح سے متعلق کیا حکم ہے؟
- Answered by
- مفتی هاشم صاحب مدظله العالی
- Fatwa no.
- 6420:Lar
- Issued
- 21 جمادی الثانی 1438ھ /21 مارچ2017ء
Question
دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ ایک کرسچین عورت اسلام لائی۔ جبکہ اس کا شوہر عیسائی ہے ۔ اسلام لانے کے ایک سال تک وہ پھر اسی شوہر کے ساتھ رہی اس دوران اس کی تین ماہواریاں پوری ہو گئیں تھی اور میاں بیوی والے معاملات بھی ہوتے رہے، پھر شوہر نے اس کو چھوڑ دیا۔ اسے معلوم نہیں تھا کہ شوہر کے ساتھ اسلام لانے کے بعد وہ نہیں رہ سکتی، اس گناہ سے وہ تو بہ کر چکی ہے۔ اب اس بات کو آٹھ سال کا عرصہ بیت گیا۔ اور وہ عیسائی مسلمان نہیں ہوا۔ اب عورت آگے کسی مسلمان سے نکاح کرنا چاہتی ہے کیا شرعاً اس کے لیے نکاح کرنا جائز ہے
Answer (beginning)
جی ہاں ! صورت مسئولہ میں اس عورت کے لیے آگے کسی مسلمان سے نکاح کرنا شرعاً جائز ہے کہ جس جگہ قاضی اسلام نہ ہو اور کوئی عیسائی عورت اسلام لے آئے تو عورت قبول اسلام کے وقت سے تین حیض گزرنے تک انتظار کرے اگر اس دوران اس کا شوہر مسلمان ہو جاتا ہے تو وہ اس کے نکاح میں بدستور رہے گی اور اگر وہ مسلمان نہیں ہو تا تو اس کا نکاح زائل ہو جائے گا اور عورت کسی مسلمان سے نکاح کرنے کی مجاز ہو گی۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.