Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نماز کے بعد مصلے کو فولڈ کرنا کیسا ہے؟

Answered by
مفتی هاشم صاحب مدظله العالی
Fatwa no.
6418:Lar
Issued
21 جمادی الثانی 1438ھ /21 مارچ2017ء

Question

دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اکثر ائمہ حضرات کو دیکھا ہے کہ وہ نماز پڑھنے کے بعد مصلے کو ایک کونے سے اکٹھا کر دیتے ہیں اس طرح کرنے کا ثبوت کیا ہے ؟ اور اگر اس طرح نہ کیا جائے تو کیا گناہ گار ہوں گے ؟ اور یہ جو کہا جاتا ہے کہ اگر ایسا نہ کیا تو شیطان اس پر نماز پڑھے گا اس کی کیا حقیقت ہے ؟ سائل : رانا تجمل حسین (لاہور، کینٹ)

Answer (beginning)

نماز سے فارغ ہونے کے بعد پورے مصلے کو لپیٹ (فولڈ کر) دیا جائے تو یہ بہتر ہے اگر کسی نے نہیں لپیٹا تو وہ گناہ گار نہیں ہو گا اور صرف کو نا موڑ دینا بھی درست ہے مگر بہتر وہی ہے کہ پورا لپیٹ دے اس کی اصل ان احادیث سے نکل سکتی ہے جن میں یہ مذکور ہے کہ بغیر تہہ کیے کپڑے کو شیطان استعمال کرتا ہے مگر عوام میں جو یہ مشہور ہے کہ اگر مصلے کا کو نا نہیں موڑا تو اس پر شیطان نماز پڑھے گا بے اصل و باطل ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.