Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
قرآن کریم میں مشرق اور مغرب کے لیے مختلف صیغے کیوں بولے گئے؟
- Fatwa no.
- 6401:Lar
- Issued
- 02 جمادی الثانی 02/1438مارچ2017ء
Question
(دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ قرآن پاک میں ایک آیت ہے (رب المشرق والمغرب) اور ایک آیت ہے ( رب المشرقین ورب المغربین) اور ایک آیت ہے ( برب المشارق والمغارب) یہ تین آیات میں مشرق و مغرب کے لیے مختلف صیغے ، واحد ، تثنیہ اور جمع کے کیوں استعمال کیے گئے ہیں، اس کے متعلق رہنمائی فرمادیں۔
Answer (beginning)
جہاں مشرق و مغرب واحد کا صیغہ ہے وہاں اس سے جہت مشرق اور جہت مغرب مراد ہے۔ اور جہاں دو مشرق اور دو مغرب کا ذکر ہے وہاں دو موسموں گرمیوں اور سردیوں کے دو مشرق و مغرب مراد ہیں۔ اور جہاں مشرق و مغرب کو جمع کے صیغوں کے ساتھ ذکر کیا ہے اس سے یا تو سورج کے ہر روز کے طلوع و غروب کے مقامات مراد ہیں کیونکہ سورج ایک سال میں ہر روز ایک نئے مقام سے طلوع ہوتا ہے اور نئے مقام پر غروب ہوتا ہے تو یوں سال میں سورج کے طلوع و غروب کے 365 مقامات ہیں، یا اس سے سورج چاند اور ہر ہر ستارے کے طلوع و غروب کے مقامات مراد ہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.