Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کن صورتوں میں روزہ توڑنے پر کفارہ لازم آتا ہے؟
- Fatwa no.
- 5022:Pin
- Issued
- 13 جمادی الاول 1438ھ /11 فروری2017ء
Question
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ روزہ توڑنے پر کفارہ لازم آنے کے حوالے سے مکمل ضابطہ کیا ہے ؟
Answer (beginning)
رمضان مبارک میں روزہ دار مکلف مقیم نے ادار مضان کا روزہ رکھا جس کی نیت رات سے کی تھی اور بغیر جبر واکراہ شرعی اور بھول کے کسی آدمی کے ساتھ جو قابل شہوت ہے ،اس کے آگے یا پیچھے کے مقام میں جماع کیا، انزال ہوا ہو یا نہیں یا اس روزہ دار کے ساتھ جماع کیا گیا یا اس روزے دار نے بغیر عذر صحیح اور بغیر جبر و اکراہ شرعی اور بھول کے کوئی غذا یاد وا کھائی یا پانی پیا یا کوئی نفع رساں چیز کھائی، یا کوئی چیز لذت کے لیے کھائی یا پی یا کوئی ایسا فعل کیا جس سے افطار کا گمان نہ ہوتا ہو اور اس نے گمان کر لیا کہ روزہ جاتا رہا پھر قصد اُکھا پی لیا تو ان سب صورتوں میں روزہ کی قضا اور کفارہ دونوں لازم ہیں، البتہ…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.