Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا اپنی جائیداد مسجد و مدرسے کے لیے وقف کرنا جائز ہے؟
- Answered by
- مفتی قاسم صاحب مدظله العالی
- Fatwa no.
- 6273:Lar
- Issued
- 28 ربیع الثانی 1438ھ /29 جنوری2017ء
Question
دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ زید نے اپنی جائیداد (زمین) اپنی زندگی میں حالت صحت میں شرعی رہنمائی لے کر اپنی اولاد میں تقسیم کی۔ اب اس کے پاس کچھ مزید اپنی زمین ہے جیسے حالتِ صحت میں وہ مسجد یا مدرسے کے لیے وقف کرنا چاہتا ہے۔ کیا زندگی میں شرعاً اس طرح وقف کرنا سے وقف ہو جائے گا؟
Answer (beginning)
صورت مسئولہ میں زید کو اپنی حالتِ صحت میں وقف کرنے کا اختیار ہے لہذا اگر وہ اپنی زمین کو مسجد یا مدرسے کے لیے وقف کرے گا تو شر عاوقف ہو جائے گی کہ زندگی میں ہر شخص اپنے مال کا مختار ہے جو چاہے تصرف کرے۔ وَاللهُ أَعْلَمُ عَدَ جَل وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّ اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِيهِ وَسَلَّم Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaahlesunnat.net f daruliftaahlesunnat DaruliftAhlesunnat Dar-ul-Ifta AhleSunnat feedback@daruliftaahlesunnat.net 同
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.